متبع
علیٰ بصیرۃ نحن متبعون
ہم بصیرت کے ساتھ اتباع کرنے والے ہیں
آپ کہہ دیجئے : کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کروپھر اگر وہ یہ دعوت قبول نہ کریں تو اللہ ایسے کافروں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ آل عمران:31)
متبع
علیٰ بصیرۃ نحن متبعون
ہم بصیرت کے ساتھ اتباع کرنے والے ہیں
آپ کہہ دیجئے : کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کروپھر اگر وہ یہ دعوت قبول نہ کریں تو اللہ ایسے کافروں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ آل عمران:31)

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
تم پر مردہ اور (بہا ہوا) خون اور سور کا گوشت اور ہر وہ چیز جس پر اللہ کے سوا دوسروں کا نام پکارا گیا ہو حرام ہے (١) پھر جو مجبور ہوجائے اور وہ حد سے بڑھنے والا اور زیادتی کرنے والا نہ ہو، اس پر ان کے کھانے میں کوئی پابندی نہیں، اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔
﴿سورۃ البقرۃ:173﴾
أَنَسٍ قال: إِنه لَيَمْنَعُنِى أَنْ أحدّثكم حديثًا كثيرًا أَنَّ النبيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال: مَنْ تعمَّدَ عليّ كَذِبًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ من النار
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے فرماتے ہیں: مجھے کثرت سے احادیث نبوی بیان کرنے سے یہ روایت منع کیے ہوئے ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا اسے اپنا ٹھکانا آگ بنا لینا چاہیے۔
﴿أخرجه البخاري في: 3 كتاب العلم: 38 باب إثم من كذب على النبي صلي الله عليه وسلم﴾

عطیہ العوفی کی روایت اور فدک کا دعویٰ
عطیہ العوفی کی روایت اور فدک کا دعویٰ میں نے حسین بن یزید الطحان کے سامنے یہ حدیث پڑھی، تو انہوں نے کہا: یہ وہی ہے جو آپ نے سعید بن خثیم کے سامنے پڑھی تھی، انہوں نے فضیل سے، انہوں نے عطیہ (العوفی) سے، انہوں نے ابو سعید خدری

سیدہ فاطمہ کے گھر کو جلانے کی روایت کی حقیقت: اسلم العدوی کی روایت پر تحقیقی جائزہ
سیدہ فاطمہ کے گھر کو جلانے کی روایت کی حقیقت اسلم العدوی کی روایت پر تحقیقی جائزہ ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں ہم سے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے

اللہ تعالیٰ کے لیے مذکر صیغہ کیوں استعمال ہوتا ہے؟
اللہ تعالیٰ کے لیے مذکر صیغہ کیوں استعمال ہوتا ہے؟ ملحدین کی جانب سے ایک اعتراض کیا جاتا ہے کہ: ویسے تو خدا کی کوئی جنس نہیں لیکن اگر میں یہ کہوں گی “خدا سب کی دعا سنتی ہے” تو یہ خدا کی توہین ہو گی لیکن اگر میں کہوں

حدیثِ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اوررفع الیدین
حدیثِ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اوررفع الیدین احناف کے نزدیک ترکِ رفع الیدین کی سب سے مشہور دلیل سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ اس روایت کو بعض حضرات رفع الیدین کے نسخ یا ترک پر دلیل بناتے ہیں، جبکہ اصولِ حدیث کی روشنی میں

کیا رجم ایک بھیانک سزا ہے ؟
کیا رجم ایک بھیانک سزا ہے؟ الحمد للہ! حدودِ شرعیہ پر اعتراضات کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں کچھ لوگوں نے انسانی عقل، جذبات یا مغربی تصوراتِ حقوقِ انسانی کو معیار بنا کر اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ احکام پر سوالات اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ انہی اعتراضات میں

عیسائیوں کے تین سوالات اور ان کے جوابات
عیسائیوں کے تین سوالات اور ان کے جوابات اسلامی عقائد اور مسیحی عقائد کے درمیان بنیادی اختلافات میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی حقیقت اور مقام و مرتبہ کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ زیر نظر تحریر میں ایک عیسائی سائل کی طرف سے پیش کیے گئے تین سوالات کے جوابات