بسم اللہ والحمد للہ وحدہ الصلاة والسلام علی من لا نبی بعدہ

متبع

علیٰ بصیرۃ نحن متبعون

ہم بصیرت کے ساتھ اتباع کرنے والے ہیں

آپ کہہ دیجئے : کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کروپھر اگر وہ یہ دعوت قبول نہ کریں تو اللہ ایسے کافروں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ آل عمران:31)

متبع

علیٰ بصیرۃ نحن متبعون

ہم بصیرت کے ساتھ اتباع کرنے والے ہیں

آپ کہہ دیجئے : کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ اللہ خود تم سے محبت کرنے لگے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ : اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کروپھر اگر وہ یہ دعوت قبول نہ کریں تو اللہ ایسے کافروں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۃ آل عمران:31)

Untitled 1 Copy

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ۗ ذَٰلِكَ تَخْفِيفٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ ۗ فَمَنِ اعْتَدَىٰ بَعْدَ ذَٰلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ

اے ایمان والو تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد، آزاد کے بدلے , غلام , غلام کے بدلے عورت ,عورت کے بدلے (١) ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہیے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہیے (٢) تمہارے رب کی طرف سے یہ تخفیف اور رحمت ہے (٣) اس کے بعد بھی جو سرکشی کرے اسے دردناک عذاب ہوگا (٤

﴿سورۃ البقرۃ:178﴾

طَلْحَةَ بن عُبَيْد الله قال: جاءَ رجلٌ إِلى رسولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ من أهل نجْدٍ ثائرُ الرأسِ يُسْمَعُ دوِيُّ صوتِهِ ولا يُفْقَهُ ما يقول، حتى دنا فإِذا هو يسأَل عن الإسلام؛ فقال رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خمسُ صلواتٍ في اليومِ والليلةِ فقال: هل عليّ غيرُها قال: لا إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ قال رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وصيامُ رمضانَ قال: هل عليّ غيره قال: لا إِلاَّ أَن تَطَوَّعَ قال، وذكر له رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزكاةَ قال هل عليَّ غيرُها قال لا إِلاَّ أَنْ تَطَوَّعَ قال فأَدبر الرجل وهو يقول: والله لا أزيد على هذا ولا أَنْقصُ قال رسول الله صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ

 سیّدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نجد والوں میں سے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، سر پریشان یعنی بال بکھرے ہوئے تھے، ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنتے تھے، اور ہم سمجھ نہیں پا رہے تھے، کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ نزدیک آن پہنچا، تو معلوم ہوا کہ وہ اسلام کے بارے میں پوچھ رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام دن رات میں پانچ نمازیں پڑھنا ہے۔ اس نے کہا بس اس کے سوا تو اور کوئی نماز مجھ پر نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں مگر تو نفل پڑھے (تو اور بات ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور رمضان کے روزے رکھنا۔ اس نے کہا اور تو کوئی روزہ مجھ پر نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں مگر تو نفلی روزے رکھے (تو اور بات ہے) سیّدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوٰۃ کا بیان کیا۔ وہ کہنے لگا بس اور تو کوئی صدقہ مجھ پر نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں مگر یہ کہ تو نفل صدقہ دے (تو اور بات ہے) راوی نے کہا پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا گیا اور یوں کہتا جا رہا تھا، اللہ کی قسم میں نہ اس سے بڑھاؤں گا نہ گھٹاؤں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ سچا ہے تو اپنی مراد کو پہنچ گیا۔

﴿  أخرجه البخاري في: 2 كتاب الإيمان: 34 باب الزكاة من الإسلام

ویڈیو بیانات

عقائدِ اسلام
اسلام کے بنیادی عقائد کو قرآن و سنت کی روشنی میں جانیے۔ توحید، رسالت، آخرت اور ایمان کے دیگر بنیادی اصولوں کو صحیح فہم کے ساتھ سمجھیے۔
عقائد جانیے
فقہ السنہ
نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دیگر عبادات کے مسائل قرآن و سنت کی روشنی میں سیکھیے۔ اپنی عبادات کو صحیح طریقے سے ادا کرنے کے لیے مستند رہنمائی حاصل کیجیے۔
اعمال سیکھیے
سیرتِ نبوی ﷺ
رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی، اخلاق، معاملات اور دعوتی جدوجہد کا مطالعہ کیجیے۔ آپ ﷺ کی سیرت سے اپنی زندگی کے لیے رہنمائی اور عملی سبق حاصل کیجیے۔
سیرت پڑھیں
حدیثِ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اوررفع الیدین

حدیثِ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اوررفع الیدین احناف کے نزدیک ترکِ رفع الیدین کی سب سے مشہور دلیل سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ اس روایت کو بعض حضرات رفع الیدین کے نسخ یا ترک پر دلیل بناتے ہیں، جبکہ اصولِ حدیث کی روشنی میں

مزید پڑھیں
کیا سیدنا ابوبکرؓ نے بیتِ فاطمہؓ پر حملے کا اعتراف کیا تھا؟ روایت کا جائزہ

کیا سیدنا ابوبکر نے بیتِ فاطمہ پر حملے کا اعتراف کیا تھا؟ روایت کا جائزہ شیعہ حضرات کی جانب سے ایک روایت پیش کی جاتی ہے جس کا متن درج ذیل ہے: “میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی اس بیماری میں عیادت کے لیے گیا جس میں

مزید پڑھیں
کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غزوۂ اُحد میں بھاگ گئے تھے؟ روایت کی مکمل تحقیقی حقیقت

کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ غزوۂ اُحد میں بھاگ گئے تھے؟ روایت کی مکمل تحقیقی حقیقت “ہم سے بیان کیا ابو ہشام الرفاعی نے، انہوں نے کہا: ہم سے بیان کیا ابو بکر بن عیاش نے، انہوں نے کہا: ہم سے بیان کیا عاصم بن کلیب نے، انہوں نے

مزید پڑھیں
فدک اور ناراضگیِ فاطمہ کی حقیقت

فدک اور ناراضگیِ فاطمہ کی حقیقت فدک کے مسئلے میں سب سے زیادہ پیش کی جانے والی روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی صحیح بخاری کی روایت ہے، جسے شیعہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ پر اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ پہلے روایت ملاحظہ فرمائیں:

مزید پڑھیں
حدیثِ علی رضی اللہ عنہ اوررفع الیدین

حدیثِ علی رضی اللہ عنہ اوررفع الیدین احناف کے نزدیک ترکِ رفع الیدین کی ایک  مشہور دلیل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ اس روایت کو بعض حضرات رفع الیدین کے نسخ یا ترک پر دلیل بناتے ہیں، جبکہ اصولِ حدیث کی روشنی میں اس روایت پر متعدد

مزید پڑھیں
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لعنت کی روایت —ایک جامع تحقیقء

اللہ نے آدم کو سب نام سکھائے، فرشتوں کو نہیں سکھائے۔ تو آدم کا فرشتوں سے مقابلہ کیسے بنا؟ عنوان: اللہ کی لعنت ہو سوار پر، آگے سے کھینچنے والے پر اور پیچھے سے ہانکنے والے پر 2- اسے ابنِ بزار نے اپنی مسند “البحر الزخار” میں رسول اللہ ﷺ

مزید پڑھیں

کیا جمعہ کا خطبہ سنتے سنتے استغفار اور اللہ کا ذکرکرنا جائز ہے؟

دورانِ خطبہ ذکر اذکار کرنا بالکل جائز نہیں۔ کیونکہ انسان ایک ہی وقت میں خطبہ سننے اور اذکار کرنے پر 100 فیصد توجہ نہیں دے سکتا اسی لیے چاہیے کہ انسان اپنی مکمل توجہ خطبہ سننے پر کرے۔ بعد میں اس کے پاس پورا دن اور پھر ایک مکمل ہفتہ ہو گا جتنا چاہے ذکر اذکار اور استغفار کرے۔

واللہ اعلم

غصے میں کھائی گئی قسم کا کیا کفارہ ہوگا؟

غصے کی حالت میں کھائی گئی قسم کا کفارہ وہی ہے، جو کفارہ پیار کی حالت میں کھائی گئی قسم کا ہے۔ جس کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان کیا ہے: ”اس (قسم) کا کفارہ دس محتاجوں کو کھانا دینا ہے اوسط درجے کا جو اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑا دینا، یا ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا ہے، اور جو کوئی نہ پائے تو وہ تین دن کے روزے رکھے، یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔“ (سورۃ المائدۃ: 89)

واللہ اعلم